ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جرمنی میں تارکینِ وطن پر روزانہ 10حملے

جرمنی میں تارکینِ وطن پر روزانہ 10حملے

Tue, 28 Feb 2017 15:18:43    S.O. News Service

برلن،27فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جرمن وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں آنے والے تارکینِ وطن پرگذشتہ برس کے دوران تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دس حملے ہوئے۔بتایا گیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں 43بچوں سمیت 560افراد زخمی ہوئے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق تین چوتھائی حملوں میں تارکینِ وطن کو ان کی رہائش گاہوں سے باہر کے علاقوں میں نشانہ بنایا گیا جب کہ 1000کے قریب ایسے حملے تھے جن میں ان کی قیام گاہیں نشانہ بنیں۔جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کی جانب سے تارکینِ وطن کے لیے دروازے کھولنے کے بعد ان پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔اس وقت جرمنی میں بہت سے تارکینِ وطن نے پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں اور یورپ بھر میں دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ ہے۔مگر جرمنی میں گذشتہ برس پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی۔ یہ تعداد سنہ 2015میں چھ لاکھ تھی جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد دو لاکھ اسّی ہزار تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ جرمنی جانے والے اہم راستے کی بندش تھی۔ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کے بعد بلقان کے راستے سے آنے والے تارکینِ وطن کا راستہ بند ہو گیا تھا۔یہ معاملہ جرمنی کے رواں برس ستمبر میں ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہوگا۔

اتوار کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ابتدائی اعدادوشمار میں کہا گیا کہ یہ پارلیمانی سوالات کے جواب میں جاری کیے گئے ہیں۔تاہم ان اعدادوشمار کا 2015 کے ساتھ مکمل طور پر موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے افراد پر انفرادی طور پر ہونے والے حملوں کا ریکارڈ سنہ 2016میں رکھنے کا آغاز ہوا تھا۔دسمبر 2015میں باویریا کے علاقے واسیسٹین میں موجود ہوسٹلوں میں آگ بھڑک اٹھنے سے 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔

جنوری 2016میں ویلیگن کے جنوب مغربی دیہی علاقے میں 170افراد کے ہوسٹل کو نشانہ بنایا گیا تاہم اسے اڑانے میں انھیں ناکامی ہوئی۔فروری 2016 میں مشرقی جرمنی کے علاقے بوٹزین میں ایک ایسی عمارت کی چھت اڑ گئی جسے تارکینِ وطن کی رہائش گاہ کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ستمبر 2016میں تارکینِ وطن اور رہائشیوں کے درمیان تصادم ہوا۔رواں برس ایک جرمن سیاستدان جن کا تعلق دائیں بازو کی جماعت این پی ڈی سے ہے کو آٹھ سال قید کی سزا ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے مک کے سپورٹس ہال جسے تارکینِ وطن کے لیے استعمال کیا جانا تھا میں آگ لگا دی تھی۔


Share: